میڈرڈ( 10 اکتوبر 2026ء دوست نیوز) پوپ لیو چہاردہم نے سزائے موت کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سزا انسانی جان کے تقدس اور انسان کی عزت و وقار کے منافی ہے۔ ان کا یہ بیان عالمی یومِ انسدادِ سزائے موت کے موقع پر سامنے آیا ہے، جبکہ امریکہ میں نیدال حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینے کے اعلان پر بھی مذہبی رہنماؤں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
پوپ لیو چہاردہم نے ہفتے کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے سرکاری اکاؤنٹ کے ذریعے پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ سزائے موت کسی صورت قابلِ قبول نہیں، کیونکہ یہ انسانی شخصیت کے ناقابلِ تنسیخ احترام اور وقار کو مجروح کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ معاشرے کی اجتماعی بھلائی اور انصاف کے تقاضوں کو سزائے موت کے بغیر بھی پورا کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایسے مؤثر نظامِ قید موجود ہیں جو شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ مجرموں کو اپنی اصلاح اور دوبارہ بہتر زندگی اختیار کرنے کا موقع بھی دیتے ہیں۔
نیدال حسن کو نومبر 2009ء میں امریکی فوجی اڈے فورٹ ہُڈ میں 13 افراد کو قتل کرنے اور 32 دیگر کو زخمی کرنے کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔ 2013ء میں فوجی عدالت نے انہیں سزائے موت دینے کا فیصلہ کیا۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے جمعرات کو اعلان کیا کہ ان کی سزائے موت پر عمل درآمد 3 دسمبر 2026ء کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے متوقع ہے، تاہم قانونی کارروائیوں کے باعث اس میں تاخیر ہو سکتی ہے۔
اس سے قبل جمعے کے روز ویٹیکن کے سیکریٹری آف اسٹیٹ کارڈینل پیٹرو پیرولین نے مجوزہ پھانسی کو براہِ راست نشر کرنے کے منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کسی انسان کی موت کو تماشہ بنانا ناقابلِ قبول ہے۔ ان کے مطابق جرم کتنا ہی سنگین کیوں نہ ہو، انصاف کے حصول کے دوسرے طریقے موجود ہیں۔
امریکی کیتھولک بشپ کانفرنس کے صدر آرچ بشپ پال کوکلی نے بھی اس فیصلے پر صدمے اور گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے اسے دوبارہ زیرِ غور لانے کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا کہ حسن کے اقدامات کو کسی صورت جائز قرار نہیں دیا جا سکتا، تاہم ان کے بقول سرِعام سزائے موت دینے کا فیصلہ معاشرے میں موت کے کلچر کو فروغ دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے امریکی معاشرے کی اخلاقی اقدار پر اس کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے بھی تشویش ظاہر کی۔
