دعوت اسلامی کے زیراہتمام مسجد الرضوان میں جشنِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم،حاجی عبدالحبیب عطاری کا خطاب

Untitled-3

بارسلونا/ 1500 سالہ جشنِ میلاد کے سلسلہ میں دعوت اسلامی کے زیراہتمام مسجد الرضوان لاسلوت بادالونا میں عظیمُ الشان اجتماع ہوا،جس سےرکنِ شوریٰ حاجی عبدالحبیب عطاری نے اپنے خطاب کا آغاز پنجابی کی ایک نعت پیش کر کے کیا۔نعت کے دوران مسجد میں موجود عاشقان رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم جھنڈیاں لہراتے نعرے لگاتے رہے۔

رکنِ شوریٰ حاجی عبدالحبیب عطاری نے اپنے خطاب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے 1500یوم پیدائش کے حوالہ سے عام پائی جانے والی غلط فہمی دور کی انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت کی تلقین فرمائی اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پیدائش کے حوالہ سے کہاکہ حضور اکرم ﷺ کی ولادتِ مبارکہ کے وقت میں بھی ایک عظیم راز پنہاں ہے۔ آپ ﷺ کی ولادت نہ صرف ایک دن یا ایک لمحے کا واقعہ ہے بلکہ اس کے اندر کائناتی حکمت اور ربانی شان جھلکتی ہے۔

بیان کیا گیا کہ نبی کریم ﷺ کی ولادت صبحِ صادق کے وقت کیوں ہوئی؟ رات ختم ہو رہی تھی اور دن طلوع ہونے کو تھا۔ اگر صرف رات میں ولادت ہوتی تو رات فخر کرتی کہ مجھ پر یہ سعادت نصیب ہوئی، اور اگر صرف دن میں ہوتی تو دن کو بڑائی حاصل ہو جاتی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو ایسے وقت پیدا فرمایا جب رات جا رہی تھی اور دن آ رہا تھا۔ یوں دونوں اوقات کو آپ ﷺ کی ولادت کی برکت سے حصہ ملا۔

اسی طرح سوال اٹھتا ہے کہ حضور ﷺ کی ولادت پیر کے دن کیوں ہوئی؟ جبکہ سب جانتے ہیں کہ ہفتے کا افضل ترین دن جمعہ ہے۔ کئی انبیاء کی ولادتیں اور اہم واقعات جمعہ اور عاشورہ (دس محرم) کو ہوئے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ اپنے محبوب ﷺ کی ولادت ایسے دن عطا کرے جس کا پہلے کوئی خاص مقام نہ تھا۔ نہ صرف دن بلکہ مہینہ بھی ایسا منتخب کیا جسے “ربیع الاول” کہا جاتا تھا، جو بڑے مہینوں جیسے رمضان اور محرم کی طرح معروف نہ تھا۔

اس میں حکمت یہ ہے کہ اگر آپ ﷺ کی ولادت بھی کسی بڑے دن یا بڑے مہینے میں ہوتی تو لوگ اس دن یا مہینے کو اصل عظمت کا سبب سمجھتے اور آپ ﷺ کا ذکر ثانوی ہو جاتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ جس دن اور جس مہینے کو کوئی نہیں جانتا تھا، وہ آپ ﷺ کی ولادت کی نسبت سے ہمیشہ کے لیے بابرکت اور باعثِ عظمت بن جائے۔

یہی وجہ ہے کہ آج تک مسلمان پیر کے دن کو عید کی طرح مناتے ہیں۔ مدینہ منورہ میں آج بھی پیر کے دن دسترخوان بچھتے ہیں، لوگ روزے رکھتے ہیں۔ خود نبی کریم ﷺ ہر پیر کے دن روزہ رکھتے اور فرمایا کرتے:

“یہ وہ دن ہے جس دن میری ولادت ہوئی تھی۔”

یوں پیر کا دن حضور ﷺ کے عاشقوں کے لیے ہمیشہ خوشی اور رحمت کا دن بن گیا۔

جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مناسبت سے ہونے والی اس تقریب کے اختتام پر درود وسلام پیش کیا گیا اوررکنِ شوریٰ حاجی عبدالحبیب عطاری سے اہلیان بارسلونا نے ملاقات کی اور اپنی محبت کا اظہار کیا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے