فرانکو کی موت کے پچاس سال بعد: ’ریجیم 78‘ کے خلاف بڑھتی ہوئی سیاسی کشمکش

Screenshot

Screenshot

اسپین کا آئینِ 1978، جسے آمریت سے جمہوریت کی منتقلی کے نازک مرحلے کے بعد تشکیل دیا گیا تھا، آج پارلیمان کے اندر تقریباً اتنے ہی مخالفین رکھتی ہے جتنے حامی۔ نئی نسلوں کے لیے انتقالِ اقتدار کا وہ اجتماعی بیانیہ اب دور کی بات لگتا ہے، جسے ایک زمانے میں قومی اتفاقِ رائے کی علامت سمجھا جاتا تھا۔

ریجیم 78 کے خلاف موجودہ مہم مختلف سیاسی دھاروں میں مشترکہ نقطہ بن چکی ہے۔ انتہائی بائیں بازو کی جماعتیں (سمار اور پودیموس)، سوشلسٹ پارٹی (پی ایس او ای)، دائیں بازو کی انتہا پسند پارٹی ووکس، اور مختلف علا‌قائی قوم پرست جماعتیں، سب اپنے اپنے دلائل کے ساتھ اس بیانیے کو چیلنج کر رہی ہیں کہ اسپین کی جمہوریت کی اساس 1978 کی آئین کے ذریعے مضبوط ہوئی تھی۔

ایک جانب حکومت اور اس کے قوم پرست اتحادی ملک کو ’’کثیرالقومی‘‘ اور نیم کنفیڈرل ڈھانچے کی طرف لے جانے کی پالیسی پر کاربند ہیں، جبکہ دوسری طرف ووکس مرکزیت پر مبنی ریاست اور خودمختار اختیارات کی واپسی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ مختلف راستے لیکن نتیجہ ایک: 78 کے اتفاقِ رائے کو کمزور کرنا۔

اس عمل کی جڑیں گزشتہ دو دہائیوں میں ہونے والے بڑے سیاسی واقعات میں پیوست ہیں، جن میں دو بڑی جماعتوں (پی پی اور پی ایس او ای) میں کرپشن اسکینڈلز، بادشاہ خوان کارلوس کی دستبرداری، کاتالونیا کے مسئلے پر بڑھتا تناؤ، 2008 کے معاشی بحران کے بعد عوامی بے چینی اور 15–M تحریک سے جنم لینے والی سیاست شامل ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس بیانیے کی بنیاد، جس نے انتقالِ اقتدار کو ’’رومانوی‘‘ یا ’’مصنوعی‘‘ سمجھ کر اس پر تنقید کی، زاپاتیرو کے دورِ حکومت میں رکھی گئی۔ ان کی متعارف کردہ میموریہ ہسٹوریکا کی قانون سازی نے خانہ جنگی اور آمریت کے زخموں پر نیا مباحثہ چھیڑا اور 78 کے معاہدے کو ناکافی قرار دیا۔ بعد ازاں پودیموس کے رہنما پابلو اِگلیسیاس نے اس سوچ کو مزید آگے بڑھایا، اور یہ نقطۂ نظر آج سوشلسٹ پارٹی کے ایک حصے میں بھی جگہ پا چکا ہے۔

کئی ماہرین کے مطابق 78 کا جذبۂ مصالحت زاپاتیرو کے دور میں کمزور ہوا۔ بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ اس دور میں اسپین کی قومی وحدت کے تصور کو چیلنج کیا گیا اور ریاست کو کثیرالقومی ڈھانچے کی طرف دھکیلنے کی کوششیں تیز ہوئیں۔ کچھ مبصرین تو اس سیاسی صورت حال کو 1936 کے عوامی محاذ سے جوڑتے ہیں، اور موجودہ پالیسیوں کو اسی سلسلے کی تازہ کڑی قرار دیتے ہیں۔

دوسری جانب کچھ لکھاری اور مورخین 78 کی ٹرانزیشن پر بنیادی سوالات اٹھاتے ہیں اور اسے ایسے سیاسی طبقے کا نتیجہ قرار دیتے ہیں جو بعد میں ختم ہو گیا، جبکہ معاشرہ ایک مضبوط شہری ڈھانچہ قائم نہ کر سکا۔ ان کے مطابق یہی وہ کمزوریاں ہیں جنہوں نے آج کے سیاسی عدم استحکام کو جنم دیا۔

کاتالونیا کا مسئلہ، جو ایک وقت میں آئینی مفاہمت کا حصہ تھا، اب ریاستی بحران کی مستقل وجہ بن چکا ہے۔ ناقدین کے مطابق سانچز اور پُوجدیمونت کے درمیان ہونے والا معاہدہ اور 2024 کی امیونسٹی قانون ٹرانزیشن کے بنیادی تصورات سے انحراف کی علامت ہے۔ بعض ماہرین تو یہاں تک کہتے ہیں کہ جیسے 1977 کی امیونسٹی ٹرانزیشن کی شروعات تھی، ویسے ہی 2024 کی امیونسٹی اس کے خاتمے کا آغاز ہے۔

قانونی ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ سیاست دانوں کا بڑھتا ہوا جارحانہ انداز، ایک دوسرے پر غداری اور بدعنوانی کے الزامات اور سیاسی مکالمے کا زوال جمہوری ڈھانچے کو مزید کمزور کر رہا ہے۔

اس ماحول میں سوال یہ ہے کہ کیا آئین کی اصلاح ناگزیر ہو چکی ہے یا پھر موجودہ دستوری نظام میں اب بھی وہ صلاحیت باقی ہے جو مختلف سیاسی دھاروں کو ایک جگہ لا سکے۔ سابق وزیر اعظم خوسے ماریا اَزنار کا کہنا ہے کہ مسئلہ اتفاق رائے کا نہیں بلکہ اختلاف کو تعمیری انداز میں برتنے کی صلاحیت کا ہے، جو آئین اب بھی فراہم کرتا ہے۔

بنیادی سوال یہ رہ جاتا ہے کہ کیا اسپین ایک مشترکہ قومی بیانیہ برقرار رکھ سکے گا، یا پھر ماضی کی کشمکش مستقبل کی سیاست کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دے گی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے