پاکستان کے نامور خطیب جمال الدین بغدادی کا فیضان مدینہ بارسلونا کے زیراہتمام اسپورٹس ہال میں خطبہ جمعہ،نمازیوں کی بڑی تعداد میں شرکت
بارسلونا(دوست نیوز) پاکستان کے نامور خطیب اعظم پیر مفتی جمال الدین بغدادی ڈیرا ریسٹورنٹ بارسلونا کے اونر حاجی آصغر علی ،علی رضا جمالی ،ریاست علی کی خصوصی دعوت پربارسلونا پہنچے ہیں،
فیضان مدینہ بارسلونا کے زیراہتمام اسپورٹس ہال میں جمعہ کا خطبہ ارشاد فرمایا،معروف پاکستانی بزنس مین سماجی شخصیت رانا نوید اسلم صراف نے ملاقات کی اور دعاؤں کی درخواست کی

نمازیوں کی بڑی تعداد نے خطبہ جمعہ سماعت کیا۔
حضرت جمال الدین بغدادی نے خطبہ جمعہ ارشاد فرماتے ہوئے کہا میں نے تمہیں یہی بات سمجھانی تھی کہ صرف بڑے مولوی یا بڑے خطیب قبر میں کسی کو نہیں بچا سکتے۔ اصل نجات کا ذریعہ صرف حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، ان کی اطاعت اور اللہ کا فضل ہے۔ یہ بات کسی انسان کے بارے میں نہیں، صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نسبت سے ہے۔صحیح بخاری میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد موجود ہے کہ:

“جب بندہ دنیا سے رخصت ہوتا ہے اور قبر میں جاتا ہے تو اسے تین چیزیں ساتھ لے جاتی ہیں۔ اس کے اہل و عیال واپس ہو جاتے ہیں، اس کا مال واپس ہو جاتا ہے، صرف اس کے اعمال اس کے ساتھ رہتے ہیں۔”
یعنی کسی انسان کے رتبے، نام، شہرت یا بڑے عالم ہونے سے قبر میں نجات نہیں ملتی۔ وہاں صرف ایمان، اعمال اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت کام آتی ہے۔ محبت وہ جو سنت پر چلنے اور گناہوں سے بچنے کا راستہ دکھائے۔

قبر میں کوئی دھوکا نہیں چلتا، کوئی سفارش کام نہیں آتی سوائے اس کے جس کی اجازت اللہ دے۔ وہاں سچائی سامنے آ جاتی ہے۔
بندے کو اصل شوق اپنے رب کے سامنے اس حال میں کھڑے ہونے کا ہونا چاہیے کہ وہ اسے دیکھ رہا ہے۔ جب انسان سچ میں اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے تو اللہ اپنے فضل کے دروازے کھول دیتا ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جس کا ذکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک دعا میں کیا۔

حضور نے فرمایا کہ بندے کا دل اگر سچا ہو اور وہ اللہ کی طرف جھک جائے تو اللہ اسے وہ مقام دیتا ہے جو کسی اور ذریعے سے نہیں مل سکتا۔ یہ بات کسی بزرگ، کسی درویش یا کسی انسان کے بارے میں نہیں، بلکہ صرف اللہ کے فضل اور حضور کی دعا کی برکت کے بارے میں ہے۔

دوستو، میں نے آپ کو یہی بات سمجھانی ہے کہ نجات کا انحصار صرف اللہ کی ذات پر ہے۔ جنت کا راستہ اعمال سے بنتا ہے اور اس کی بلندیوں کا وعدہ بھی اللہ ہی کی طرف سے ہوتا ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے لیے خیر چاہتے ہیں، مگر کسی کے ساتھ دنیاوی مفاد نہیں رکھتے، کسی کی طرفداری نہیں کرتے، کسی کے ساتھ سیاسی رویہ نہیں رکھتے۔ وہ تو سب کے لیے رحمت ہیں۔

ہمیں بھی یہی سکھایا گیا ہے کہ لوگوں کے دلوں کی قدر کریں۔ زبان سے کسی کو تکلیف نہ دیں۔ ہاتھ سے کسی کو نقصان نہ پہنچائیں۔ کیونکہ قدر اور عزت صرف اللہ کے نزدیک فائدہ دیتی ہے۔

اگر کوئی شخص نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو دل کی سچائی سے اپنا لے تو اللہ اسے بھی وہی نور، وہی سکون اور وہی قرب عطا فرماتا ہے جو حضور کی محبت میں ملتا ہے
نماز جمعہ کے بعد نمازیوں کی بڑی تعداد نے دست بوسیکی اور دعاؤں کی درخواست کی۔