بحیرۂ روم میں متعدد کشتیوں کے حادثات، سینکڑوں تارکینِ وطن لاپتہ
Screenshot
میڈرڈ(دوست نیوز)بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت (او آئی ایم) نے خبردار کیا ہے کہ گزشتہ دس دنوں کے دوران بحیرۂ روم کے وسطی حصے میں پیش آنے والے متعدد کشتی حادثات کے بعد سینکڑوں تارکینِ وطن لاپتہ ہو چکے ہیں۔ شدید خراب موسم کے باعث تلاش اور امدادی کارروائیاں شدید متاثر ہوئی ہیں۔
او آئی ایم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 2026 کے ابتدائی ہفتوں ہی میں خدشہ ہے کہ سینکڑوں افراد لاپتہ ہو چکے ہیں، جبکہ لاپتہ کشتیوں کی تلاش کا عمل ابھی جاری ہے۔ تنظیم کے مطابق اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ بھی ہو سکتی ہے، جو اس حقیقت کی ایک بار پھر یاد دہانی ہے کہ بحیرۂ روم کا یہ راستہ دنیا کا سب سے خطرناک مہاجرتی راستہ بنا ہوا ہے۔
تنظیم نے صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سانحات ایک بار پھر انسانی اسمگلنگ اور ٹریفکنگ میں ملوث نیٹ ورکس کے مہلک نتائج کو بے نقاب کرتے ہیں، جو بغیر کسی خوف کے لوگوں کو ناقابلِ استعمال اور حد سے زیادہ بھری ہوئی کشتیوں میں سمندر میں بھیج دیتے ہیں۔
او آئی ایم نے زور دیا کہ یہ واقعات اس امر کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں کہ عالمی برادری انسانی جانوں کے مزید ضیاع کو روکنے کے لیے مجرمانہ نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر اقدامات کرے۔ اس ضمن میں تنظیم نے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز کو مضبوط بنانے اور ذمہ داروں کے احتساب پر بھی زور دیا ہے۔
حالیہ دنوں میں تصدیق ہوئی ہے کہ تیونس کے شہر صفاکس سے روانہ ہو کر اٹلی کے جزیرے لیمپیڈوسا پہنچنے والی ایک کشتی میں سوار تین افراد، جن میں تقریباً ایک سال کی جڑواں بچیاں بھی شامل ہیں، ہائپوتھرمیا کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔ او آئی ایم کے مطابق یہ اموات ایک بار پھر ان شدید خطرات اور کمزوریوں کو ظاہر کرتی ہیں جن کا سامنا ان خطرناک سفر پر نکلنے والے افراد کو ہوتا ہے۔
تنظیم نے مزید بتایا کہ اسی کارروائی میں بچ جانے والے افراد نے اطلاع دی کہ اسی وقت اور اسی مقام سے ایک اور کشتی روانہ ہوئی تھی جو کبھی منزل تک نہیں پہنچی۔ اس باعث خدشہ ہے کہ وہ بھی کسی حادثے کا شکار ہوئی ہو اور اس میں سوار افراد کی حالت کے بارے میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
او آئی ایم کے مطابق معلومات ابھی مکمل نہیں، تاہم ایک تجارتی جہاز کے ذریعے بچائے گئے ایک شخص نے بتایا کہ وہ ایک ایسے حادثے سے بچا ہے جس میں کم از کم پچاس افراد لاپتہ یا ہلاک ہو چکے ہیں۔
اطالوی کوسٹ گارڈ گزشتہ دنوں لاپتہ یا خطرے میں بتائی گئی دیگر کشتیوں کی تلاش کے لیے کارروائیوں کی قیادت کر رہی ہے۔ دوسری جانب، لیبیا کے ساحلی شہر طبرق کے قریب پیش آنے والے ایک اور حادثے میں 51 افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
او آئی ایم نے کہا ہے کہ اگرچہ ابھی سرکاری تصدیق کا انتظار ہے، تاہم ممکنہ ہلاکتوں کی تعداد بحیرۂ روم کے وسطی حصے میں ایک اور بڑے سانحے کی نشاندہی کرتی ہے۔ تنظیم نے یاد دلایا کہ یہ تمام واقعات ایک غیر معمولی اور شدید طوفان (سائیکلون ہیری) کے دوران پیش آئے، جبکہ صرف 2025 میں ہی اس مہاجرتی راستے پر 1,340 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
آخر میں او آئی ایم نے کہا کہ شدید طوفان کے دوران کشتیوں کو روانہ کرنا انتہائی قابلِ مذمت عمل ہے، کیونکہ اس میں لوگوں کو جان بوجھ کر ایسے حالات میں سمندر میں بھیجا گیا جہاں موت کا خطرہ تقریباً یقینی تھا۔