قائمہ کمیٹی کا بیرونِ ملک روزگار کے رجحانات، فلاحی مسائل اور مختلف ممالک میں تعینات کمیونٹی ویلفیئر اتاشیوں کی کارکردگی کا جائزہ
اسلام آباد (27 جنوری 2026) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانی و انسانی وسائل کی ترقی کا اجلاس آج پارلیمنٹ ہاؤس کے کانسٹی ٹیوشن روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین کمیٹی سید رفیع اللہ نے کی۔ اجلاس میں بیرونِ ملک روزگار کے رجحانات، اوورسیز پاکستانیوں کو درپیش فلاحی مسائل اور اہم ممالک میں تعینات کمیونٹی ویلفیئر اتاشیوں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے بیرونِ ملک پاکستانی محنت کشوں کو سہولت فراہم کرنے، آگاہی بڑھانے اور ادارہ جاتی ہم آہنگی بہتر بنانے کے اقدامات پر بھی غور کیا۔ چیئرمین نے پاکستان۔یورپی یونین فیڈریشن کے وفد کو خصوصی مدعو کیا، جن میں چیئرمین ڈاکٹر پرویز اقبال لوہسر بھی شامل تھے۔

کمیٹی کو خلیجی ممالک، جاپان، جنوبی کوریا اور ملائیشیا میں تعینات کمیونٹی ویلفیئر اتاشیوں نے تفصیلی بریفنگ دی۔ کویت سے متعلق بریفنگ میں بتایا گیا کہ ویزا سے جڑے سابقہ مسائل کے حل اور کویتی حکام سے رابطے کے بعد روزگار کے مواقع میں بہتری آئی ہے۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ تکنیکی وفد کی کوششوں سے زیر التوا امور طے پائے اور پاکستان نے نئے روزگار مواقع میں نمایاں حصہ حاصل کیا۔ تاہم اراکین نے بار بار سامنے آنے والے مسائل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بیرونِ ملک پاکستان کی مجموعی ساکھ اور قانونی تعمیل بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس میں جعلی کمپنیوں اور ملک بدری کے واقعات پر بھی بات ہوئی۔ کمیٹی نے اس امر پر زور دیا کہ بیرونِ ملک جانے والے پاکستانیوں کو میزبان ممالک کے قوانین، ویزا شرائط اور خلاف ورزیوں کے نتائج سے مکمل آگاہی ہونی چاہیے، بالخصوص منشیات اور مالی جرائم سے متعلق قوانین کے بارے میں۔

سعودی عرب (جدہ اور ریاض) سے موصولہ بریفنگ میں بتایا گیا کہ مملکت میں لاکھوں پاکستانی مقیم ہیں۔ کمیٹی کو لیبر تنازعات کے حل، واجبات اور اختتامی مراعات کی وصولی، دیت کے مقدمات، پھنسے ہوئے یا وفات پانے والے افراد کی وطن واپسی اور مقامی حکام و آجروں سے رابطہ کاری سمیت وسیع فلاحی سرگرمیوں سے آگاہ کیا گیا۔ کمیٹی نے جانشینی سرٹیفکیٹس، اقامہ مسائل، تعلیمی سہولیات اور سعودی وژن 2030 کے تحت دیگر لیبر بھیجنے والے ممالک سے مقابلے جیسے چیلنجز کا نوٹس لیا۔
اراکین نے لیبر مارکیٹ کے تجزیے، ملازمتوں کی نشاندہی اور بڑے ترقیاتی منصوبوں کے تحت آجروں سے روابط پر وضاحت طلب کی۔ وزارت نے بتایا کہ رپورٹنگ نظام کو ڈیجیٹل کیا جا رہا ہے تاکہ حقیقی وقت میں تجزیہ ممکن ہو اور اسی بنیاد پر روزگار اہداف میں نظرثانی کی جائے گی۔ کمیٹی کو افرادی قوت کے معاہدوں، ہیومن ریسورس ایکسپوز اور بڑے تعمیراتی اداروں کے ساتھ بزنس ٹو بزنس روابط میں پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔
متحدہ عرب امارات (ابوظہبی اور دبئی) سے متعلق بریفنگ میں مرحومین کی وطن واپسی، قیدیوں کے مسائل، بچوں سے متعلق معاملات اور لیبر شکایات پر روشنی ڈالی گئی۔ اراکین نے وزٹ ویزا کے غلط استعمال، وائٹ کالر جرائم میں علاقائی دائرہ اختیار کی پیچیدگیوں اور یو اے ای کے ساتھ حکومت سے حکومت لیبر معاہدے کی عدم موجودگی پر تشویش ظاہر کی۔ کوریا کے لیے ویلڈرز کی بھرتی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ چیئرمین نے ان امیدواروں کی شکایات پر پیش رفت پوچھی جن کے ٹیسٹ اور انٹرویوز ہو چکے مگر تعیناتی نہیں ہوئی۔ وزارت نے بتایا کہ اس حوالے سے رپورٹ جلد پیش کی جائے گی۔
کمیٹی نے متعدد سفارشات دیں، جن میں اوورسیز پاکستانیوں کے لیے منظم آگاہی پروگرام، کمیونٹی ویلفیئر اتاشیوں کی مدت میں توسیع کے قانونی جواز کی وضاحت، سی ڈبلیو اے مد میں اخراجات کی شفافیت، زیر التوا عوامی درخواستوں کا فوری حل، اور وزٹ سے ورک ویزا مسائل اور بیرونِ ملک دائرہ اختیار کے چیلنجز پر تفصیلی رپورٹس شامل ہیں۔
اجلاس میں اراکینِ قومی اسمبلی ڈاکٹر مہرین رزاق بھٹو، ذوالفقار علی بھٹی، میاں خان بگٹی (ورچوئل)، ارم حمید، ماہ جبین خان عباسی، سعیدہ جمشید، ذوالفقار علی بہن، فرحان چشتی اور صوفیہ سعید (ورچوئل) نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانی و انسانی وسائل کی ترقی اور وزارت کے اعلیٰ افسران بھی اجلاس میں موجود تھے۔