Screenshot
سینکڑوں پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ حکومت سے اجازت ملنے کے باوجود وہ اپنے اہلِ خانہ کو اسپین لانے کے لیے اسلام آباد میں ہسپانوی سفارتخانے سے ویزا اپائنٹمنٹ حاصل نہیں کر پا رہے۔ ان کے مطابق “اپائنٹمنٹ لینے کا واحد طریقہ پیسے دینا ہے”۔
بارسلونا میں رہنے والے جاوید اقبال ڈھائی سال سے زیادہ عرصے سے انتظار کر رہے ہیں۔ انہوں نے 2024 کے آغاز میں اپنے بیٹے کی فیملی ری یونین کی منظوری حاصل کر لی تھی، لیکن اب تک سفارتخانے سے ویزا کے لیے اپائنٹمنٹ نہیں مل سکی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بیمار ہیں اور آپریشن کے بعد انہیں اپنے بیٹے کی ضرورت ہے، مگر ایک سادہ عمل بھی ناممکن بنا دیا گیا ہے۔
یہ مسئلہ صرف ایک شخص کا نہیں بلکہ سینکڑوں پاکستانی اس صورتحال کا شکار ہیں۔ تمام کاغذات مکمل ہونے کے باوجود انہیں ویزا کے آخری مرحلے یعنی اپائنٹمنٹ کے لیے سالوں انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔
اس کمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مافیا گروہ سرگرم ہو گئے ہیں جو پیسے کے بدلے اپائنٹمنٹ دلوانے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ کچھ لوگ سوشل میڈیا پر کھلے عام اشتہار دیتے ہیں جبکہ کچھ سفارتخانے کے باہر گھوم کر لوگوں کو پیشکش کرتے ہیں۔ کئی متاثرین کے مطابق زیادہ تر لوگوں نے پیسے دے کر ہی اپائنٹمنٹ حاصل کی ہے، مگر بعض کو دھوکہ بھی ہوا ہے۔
ان اپائنٹمنٹس کی قیمت مختلف ہوتی ہے اور بعض اوقات 6,000 یورو تک پہنچ جاتی ہے، جو پاکستان میں ایک عام مزدور کی کئی سال کی آمدنی کے برابر ہے۔ کچھ ایجنٹ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے سفارتخانے میں تعلقات ہیں، جبکہ کچھ صرف دستیاب اپائنٹمنٹ پکڑ کر آگے بیچتے ہیں۔
یہ صورتحال طلبہ کو بھی متاثر کر رہی ہے جنہوں نے اسپین کی یونیورسٹیوں میں داخلہ لیا مگر ویزا نہ ملنے کی وجہ سے تعلیم شروع نہیں کر سکے۔
ہسپانوی وزارتِ خارجہ نے تسلیم کیا ہے کہ ایسے غیر قانونی گروہ موجود ہیں، لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ سرگرمیاں سفارتخانے سے متعلق نہیں اور حکومت ان کی سختی سے مذمت کرتی ہے۔ وزارت کے مطابق بڑھتی ہوئی طلب کے باعث اپائنٹمنٹس میں تاخیر ہو رہی ہے اور اسے بہتر بنانے کی کوشش جاری ہے۔
بارسلونا میں پاکستانی کمیونٹی نے اس مسئلے کے خلاف آواز اٹھائی ہے، 1,500 سے زائد دستخط جمع کیے جا چکے ہیں اور محتسب (Defensor del Pueblo) کو بھی شکایت دی گئی ہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ بار بار میڈیکل اور پولیس سرٹیفیکیٹ کی تجدید بھی مہنگی اور مشکل ہے۔
کچھ افراد اب قانونی کارروائی، احتجاج اور یہاں تک کہ بھوک ہڑتال کی تیاری کر رہے ہیں۔
ایک اور انکشاف کے مطابق یہ مڈل مین ہر کسی کے ساتھ کام نہیں کرتے بلکہ صرف سفارش والے لوگوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایک ایجنٹ نے 200,000 پاکستانی روپے (تقریباً 600 یورو) میں اپائنٹمنٹ دلوانے کی پیشکش کی اور 20 فیصد ایڈوانس بھی مانگا، ساتھ ہی یہ دعویٰ کیا کہ 2 سے 3 ہفتوں میں اپائنٹمنٹ حاصل ہو سکتی ہے۔
