بارسلونا میں غیر ملکی امور کی اپائنٹمنٹس کی بلیک مارکیٹ: پولیس نے تحقیقات شروع کر دیں

پاکستانی کمیونٹی کا انکشاف: اسلام آباد میں اسپینش سفارت خانے کی اپائنٹمنٹ کی قیمت 3,000 یورو تک پہنچ گئی
“اگر میں اپنا NIE تجدید نہ کروا سکا تو نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھوں گا” – متاثرہ پاکستانی ورکر
بارسلونا، 5 اگست 2025(تحریر: جرمین گونزالیز، جے جی البالات)غیر ملکیوں کے لیے بارسلونا میں امیگریشن اپائنٹمنٹس کی دستیابی ایک طویل عرصے سے مسئلہ بنی ہوئی ہے، اور اب پولیس اس مسئلے کی ایک نازک شکل، یعنی اپائنٹمنٹس کی غیر قانونی خرید و فروخت، کی چھان بین کر رہی ہے۔

پاکستانی کمیونٹی کی کاتالان فیڈریشن نے الزام لگایا ہے کہ کچھ ‘ہیکرز’ اور ایجنٹ کمپیوٹر پروگراموں اور ایپلی کیشنز کی مدد سے سسٹم پر قبضہ جما لیتے ہیں اور بعد میں یہ اپائنٹمنٹس بیچ دیتے ہیں، جس کی قیمت 30 یورو سے 100 یورو کے درمیان ہوتی ہے۔
فیڈریشن کے صدر خالد شہباز اختر کے مطابق:“سوشل میڈیا پر کھلے عام اشتہارات چل رہے ہیں، مختلف اقسام کی اپائنٹمنٹس کے حساب سے قیمتیں بھی مختلف ہیں۔ ہم نے اس مسئلے پر حکومت سے بارہا شکایت کی ہے، مگر یہ دھندا بدستور جاری ہے۔”کچھ ہفتے قبل، کاتالونیا میں پاکستانی تنظیموں کے نمائندوں نے بارسلونا کے امیگریشن دفتر کے سامنے احتجاج بھی کیا تھا۔
پولیس کے مطابق، یہ گروہ اسپین کے باہر سے کام کر رہے ہیں، جس کے باعث ان کے خلاف قانونی کارروائی میں مشکل پیش آتی ہے۔
یہ گروہ ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے ساری اپائنٹمنٹس لمحوں میں حاصل کر لیتے ہیں، اور اصل ضرورت مند افراد کو کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
شہباز کہتے ہیں:“اگر اپائنٹمنٹ نہ ہو تو آپ کی بات سنی ہی نہیں جاتی، اور پیسے دے کر اپائنٹمنٹ خریدنا بھی سنگین مسئلہ ہے۔ ہمیں کوئی آسان راستہ میسر نہیں۔”
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ اور پن کوڈ والا نظام متعارف کروایا جائے تاکہ ہر اپائنٹمنٹ اصلی درخواست دہندہ کو ہی ملے۔
اسلام آباد میں بھی بلیک مارکیٹ: فی اپائنٹمنٹ 3,000 یورو تک
یہ مسئلہ صرف اسپین تک محدود نہیں۔ شہباز چوہان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں اسپینش سفارت خانے میں “فیملی ری یونین” (خاندانی ملاپ) کے لیے اپائنٹمنٹ کی قیمت 2,000 سے 3,000 یورو تک جا پہنچی ہے۔
ان اپائنٹمنٹس کی میعاد 90 دن ہوتی ہے، اور اسپین میں موجود پاکستانی ورکرز کو محدود وقت میں اپنے اہل خانہ کو بلانا ہوتا ہے، جس کا فائدہ یہ گروہ اٹھاتے ہیں۔
خالد شہباز چوہان نے مطالبہ کیا ہے کہ:
- بیرونِ ملک بھی ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ یا جدید آن لائن سسٹم متعارف کروایا جائے۔
- اپائنٹمنٹ کا سسٹم شفاف اور محفوظ بنایا جائے۔
- جعل ساز گروہوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
امیگریشن اپائنٹمنٹس کی بلیک مارکیٹ اسپین اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہے۔ وقت پر اپائنٹمنٹ نہ ملنے کے باعث سینکڑوں افراد کی رہائش، روزگار اور فیملی ملاپ خطرے میں ہے، جبکہ جعلساز گروہ اس کمزوری سے بھاری فائدہ اٹھا رہے ہیں۔