ڈاووس میں ٹرمپ کی “ امن کمیٹی” برائے غزہ: کی شخصیات کی مکمل فہرست

Screenshot

Screenshot

ڈاووس(دوست مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی اقتصادی فورم، ڈاووس میں غزہ کے لیے قائم کی جانے والی نام نہاد “ امن کمیٹی” یا “کونسل آف پیس” کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد غزہ کی تعمیرِ نو اور جنگ کے بعد کی صورتِ حال پر بین الاقوامی سطح پر سیاسی رابطہ کاری بتائی گئی ہے۔ تاہم یورپی رہنماؤں نے اس پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقوامِ متحدہ کے کردار کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔

اس موقع پر عرب اور مسلم ممالک کے علاوہ چند دیگر ریاستوں کے سربراہان یا وزرائے خارجہ شریک ہوئے۔ اگرچہ ٹرمپ نے دنیا بھر کے ساٹھ کے قریب سربراہانِ مملکت یا حکومت کو دعوت دی تھی، جن میں ہسپانوی وزیر اعظم پیدرو سانچیز بھی شامل تھے، مگر عملی طور پر صرف دو درجن کے قریب ممالک نے شرکت کی، اور ان میں سے بھی کئی کی نمائندگی وزرائے خارجہ کی سطح پر تھی۔

یہ “ امن کمیٹی” دراصل غزہ سے متعلق 20 نکاتی امن معاہدے سے وجود میں آئی ہے، جس پر بعض عرب اور اسلامی ممالک نے دستخط کیے تھے اور جس کے نتیجے میں دو سالہ جنگ کے بعد ایک نازک جنگ بندی ممکن ہوئی۔ تنظیم کی بنیادی دستاویز میں یہ گنجائش بھی رکھی گئی ہے کہ مستقبل میں یہ ادارہ “دیگر تنازعات” پر بھی کردار ادا کر سکتا ہے۔

ڈاووس کے اجلاس میں “ امن کمیٹی کے بانی ارکان” کے طور پر جن شخصیات کے نام لیے گئے، ان کی مکمل فہرست درج ذیل ہے:

  1. مملکتِ بحرین کے وزیرِ دربارِ وزیر اعظم – شیخ عیسیٰ بن سلمان بن حمد آل خلیفہ
  2. مملکتِ مراکش کے وزیر خارجہ – ناصر بوریطہ
  3. صدرِ جمہوریہ ارجنٹائن – خاویر میلی
  4. وزیر اعظمِ آرمینیا – نیکول پاشینیان
  5. صدرِ جمہوریہ آذربائیجان – الہام علیوف
  6. وزیر اعظمِ بلغاریہ – روزن ژیلیازکوف
  7. وزیر اعظمِ ہنگری – وکٹر اوربان
  8. صدرِ جمہوریہ انڈونیشیا – پرابوو سوبیانتو
  9. نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اردن – ایمن الصفدی
  10. صدرِ جمہوریہ قازقستان – قاسم جومارت توقایف
  11. صدرِ جمہوریہ کوسوو – ویوسا عثمانی
  12. وزیر اعظمِ اسلامی جمہوریہ پاکستان – شہباز شریف
  13. صدرِ جمہوریہ پیراگوئے – سانتیاگو پینا
  14. وزیر اعظم و وزیر خارجہ قطر – شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی
  15. وزیر خارجہ مملکتِ سعودی عرب – شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود
  16. وزیر خارجہ جمہوریہ ترکی – حاکان فیدان
  17. متحدہ عرب امارات کے امریکا میں خصوصی ایلچی – یوسف العتیبہ
  18. صدرِ جمہوریہ ازبکستان – شوکت مرزایوف
  19. وزیر اعظمِ منگولیا – گومبوجاوین زاندانشاتار

واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی اس  امن کمیٹی میں شمولیت کی دعوت قبول کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم وہ ڈاووس نہیں پہنچے۔ ان کے خلاف غزہ جنگ کے دوران مبینہ جنگی جرائم، خصوصاً بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے الزامات پر بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جانب سے گرفتاری کا حکم جاری ہو چکا ہے۔

یورپی حلقوں میں اس نئے فورم پر بحث جاری ہے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ غزہ جیسے حساس معاملے پر اقوامِ متحدہ کو نظرانداز کرنا عالمی سفارت کاری کے لیے خطرناک نظیر بن سکتا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے