اٹلی میں  شک و حسد نے پورے خاندان کو اجاڑ دیا شوہر نے بیوی کو قتل کیا، گزشتہ روز والدین نے خودکشی کر لی

IMG_9630

اٹلی(ترجمہ و رپورٹ: میاں آفتاب احمد)اٹلی کے شہر انگویلارا سابازیا میں جنوری 2026 کے دوران پیش آنے والے ایک ہولناک واقعے نے پورے ملک کو صدمے میں ڈال دیا جہاں گھریلو جھگڑے اور تشدد نے ایک ہی خاندان کی تین زندگیاں نگل لیں۔ پولیس کے مطابق 8 جنوری 2026 کو 41 سالہ خاتون فیڈریکا ٹورزولو اچانک لاپتہ ہو گئی جس پر اس کے اہل خانہ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پولیس میں رپورٹ درج کروائی، کئی دنوں کی تلاش کے بعد 18 جنوری کو اس کی لاش ایک صنعتی علاقے کے قریب زمین میں دفن حالت میں ملی جس پر چاقو کے متعدد زخم تھے، تفتیش کا دائرہ اس کے شوہر کلاؤڈیو آگوسٹینو کارلوماگنو کی طرف گیا جسے پولیس نے حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی تو اس نے اعتراف کیا کہ گھریلو جھگڑے کے دوران غصے میں آ کر اس نے اپنی بیوی کو چاقو مار کر قتل کر دیا اور بعد ازاں لاش کو چھپانے کے لیے زمین میں دفن کر دیا،

پولیس کے مطابق میاں بیوی کے درمیان علیحدگی، حسد اور خاندانی تنازعات چل رہے تھے اور اسی تناؤ نے اس قتل کو جنم دیا، یہ واقعہ اٹلی میں فیمینیسائڈ یعنی شوہر کے ہاتھوں بیوی کے قتل کی ایک اور افسوسناک مثال قرار دیا گیا۔ ادھر جب یہ خبر سامنے آئی کہ ان کا بیٹا اپنی ہی بیوی کا قاتل نکلا ہے اور جیل میں بند ہو چکا ہے تو اس صدمے اور بدنامی نے اس کے والدین پاسکوالے کارلوماگنو اور اس کی اہلیہ ماریا میسینیو کو توڑ کر رکھ دیا، شدید ذہنی دباؤ اور شرمندگی کی حالت میں دونوں میاں بیوی نے 23 اور 24 جنوری کی درمیانی شب اپنے ہی گھر میں پھانسی لگا کر خودکشی کر لی، گھر سے ایک خط بھی ملا جو انہوں نے اپنے دوسرے بیٹے کے نام لکھا تھا جس میں انہوں نے لکھا کہ وہ اس صدمے اور سماجی رسوائی کے ساتھ مزید زندہ نہیں رہ سکتے اور انہیں معاف کر دیا جائے، کئی گھنٹوں تک فون کا جواب نہ ملنے پر ایک رشتہ دار نے پولیس کو اطلاع دی جس پر پولیس موقع پر پہنچی تو دونوں لاشیں چھت سے لٹکی ہوئی پائی گئیں، یوں صرف دو ہفتوں کے اندر ایک ہی خاندان میں بیوی قتل ہو گئی، بیٹا قاتل بن کر جیل پہنچ گیا اور والدین صدمے میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے،۔ اس واقعے نے پورے اٹلی کو ہلا کر رکھ دیا ھے

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے