بھارت میں نِپاہ وائرس کے پھیلاؤ پر الرٹ، عالمی ادارۂ صحت کی کڑی نگرانی
Screenshot
بھارت میں نِپاہ وائرس کے متعدد کیسز سامنے آنے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت نے اس صورتِ حال کو ممکنہ عالمی وبا کے خطرے کے طور پر اپنی نگرانی میں لے لیا ہے۔ حکام کے مطابق اب تک پانچ کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ یہ مرض لاعلاج سمجھا جاتا ہے۔
بھارتی حکام کے مطابق نِپاہ وائرس کے کیسز مغربی بنگال میں رپورٹ ہوئے ہیں، جو ملک کے تیسرے بڑے شہر کے قریب واقع علاقہ ہے۔ اسی وجہ سے صحت کے ادارے ہائی الرٹ پر ہیں۔ وائرس بنیادی طور پر چمگادڑوں کے ذریعے پھیلتا ہے، تاہم انسان سے انسان میں منتقلی بھی ممکن ہے۔ متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر کانٹیکٹ ٹریسنگ اور قرنطینہ کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق رواں ہفتے مزید تین افراد میں انفیکشن کی تصدیق ہوئی ہے، جن میں ایک ڈاکٹر، ایک نرس اور ایک اور طبی عملے کا رکن شامل ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل سمیت بعض ذرائع کے مطابق اس سے قبل دو نرسیں، ایک مرد اور ایک خاتون، باراسات کے ایک نجی ملٹی ڈسپلنری اسپتال میں نِپاہ وائرس سے متاثر پائی گئی تھیں۔
محکمہ صحت و خاندانی بہبود کے پرنسپل سیکریٹری نارائن سروپ نگن کے مطابق متاثرہ دو نرسوں میں سے ایک کی حالت نہایت تشویشناک ہے۔ دونوں نرسوں میں دسمبر 2025 کے آخری دنوں میں تیز بخار اور سانس کی شدید تکالیف ظاہر ہوئیں۔ حکام کا خیال ہے کہ اب کوما میں موجود نرس اس وائرس سے اس وقت متاثر ہوئی جب وہ ایک ایسے مریض کا علاج کر رہی تھی جسے شدید سانس کے مسائل تھے۔ مذکورہ مریض مزید ٹیسٹ ہونے سے قبل ہی دم توڑ گیا تھا۔
اب تک 180 افراد کے طبی معائنے کیے جا چکے ہیں جبکہ ہائی رسک رابطے میں آنے والے 20 افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔ نِپاہ وائرس جانوروں اور انسانوں دونوں میں پھیل سکتا ہے، بالخصوص متاثرہ چمگادڑوں یا خنزیروں کے ذریعے۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر حکام میں وائرس کے مزید پھیلاؤ کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے۔