اسپین میں غیر قانونی مہاجرین کو قانونی حیثیت دینے کا عمل شروع، پانچ لاکھ افراد مستفید ہونے کا امکان

Screenshot

Screenshot

اسپین میں غیر قانونی طور پر مقیم مہاجرین کو قانونی درجہ دینے کے لیے ایک بڑا ریگولرائزیشن پروگرام باضابطہ طور پر شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام ہسپانوی حکومت کی جانب سے 14 اپریل کو کابینہ کی منظوری کے بعد شاہی فرمان کے ذریعے نافذ کیا گیا، جس کا مقصد ملک میں پہلے سے موجود غیر دستاویزی افراد کو قانونی دائرے میں لانا ہے۔

حکومت کے مطابق اس پروگرام سے تقریباً پانچ لاکھ افراد فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جن میں ایک بڑی تعداد کاتالونیا کے علاقے میں مقیم ہے۔ یہ اقدام ایک عوامی مہم کے نتیجے میں سامنے آیا، جس نے سات لاکھ سے زائد شہریوں کی حمایت حاصل کی۔

اس اسکیم کے تحت درخواستیں 16 اپریل 2026 سے آن لائن جبکہ 20 اپریل سے متعلقہ دفاتر میں جمع کروائی جا سکتی ہیں۔ درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 جون 2026 مقرر کی گئی ہے، تاہم بعض دستاویزات کی فراہمی میں تاخیر کی صورت میں وقت میں توسیع بھی ممکن ہے۔

اہلیت کے لیے ضروری ہے کہ درخواست دہندہ 31 دسمبر 2025 سے قبل اسپین میں موجود ہو اور کم از کم پانچ ماہ مسلسل یہاں قیام کر چکا ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کا کسی بھی قسم کا مجرمانہ ریکارڈ نہ ہو، چاہے وہ اسپین میں ہو یا اس کے آبائی ملک میں۔ سیاسی پناہ کے متلاشی افراد بھی اس پروگرام کے تحت درخواست دے سکتے ہیں، بشرطیکہ انہوں نے مقررہ تاریخ سے پہلے درخواست دی ہو۔

درخواست کے ساتھ رہائش کے ثبوت پیش کرنا لازمی ہوگا، جن میں میونسپل رجسٹریشن، طبی ریکارڈ، یوٹیلیٹی بلز یا رقوم کی ترسیل کی رسیدیں شامل ہیں۔ مزید برآں، درخواست دہندہ کو اپنے ملک سے کریکٹر سرٹیفکیٹ بھی فراہم کرنا ہوگا۔

حکام کے مطابق درخواست منظور ہونے کی صورت میں فوری طور پر ایک سال کا عارضی رہائشی اور ورک پرمٹ جاری کیا جائے گا، جس سے متعلقہ افراد اسپین میں قانونی طور پر رہنے اور کسی بھی شعبے میں کام کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ اس دوران ان کے خلاف جاری ملک بدری کے اقدامات بھی معطل کر دیے جائیں گے۔

ایک سال مکمل ہونے کے بعد یہ افراد مستقل رہائشی پروگرامز، جیسے ملازمت یا خاندانی بنیادوں پر رہائش کے اجازت ناموں میں منتقل ہو سکیں گے۔ اس اسکیم میں 18 سال سے کم عمر بچوں کو بھی شامل کیا گیا ہے، جنہیں پانچ سال کے لیے رہائشی اجازت دی جائے گی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف لیبر مارکیٹ میں کمی کو پورا کیا جا سکے گا بلکہ غیر قانونی روزگار میں کمی آئے گی اور معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ تاہم امیگریشن دفاتر کے عملے نے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر ہڑتال کا اعلان بھی کیا ہے، جس سے عملدرآمد میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے