Screenshot
سیوتا میں حکومت کے نمائندے کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس بڑے ہجوم کے بارے میں کوئی پیشگی اطلاع نہیں تھی جو سرحد کی طرف بڑھ رہا تھا، اور انہیں اس وقت تک اس کا علم نہیں ہوا جب تک انہوں نے لوگوں کو سرحد عبور کرتے ہوئے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ لیا۔
سیوتا میں حکومت کے نمائندے، میگوئل اینخل پیریز نے اتوار کے روز کہا کہ ہسپانوی انٹیلی جنس یا سیکیورٹی اداروں کی جانب سے 60 ہزار افراد کے اس بڑے گروہ کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی تھی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر لوگوں کی آمد کی پیشگی اطلاع نہ مل سکی، تو انہوں نے کہا“میرے دائرہ اختیار میں، جو کہ ان اداروں کے مقابلے میں محدود ہے، میں صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ واقعی ہمیں کوئی اطلاع نہیں تھی۔”
انہوں نے مزید کہا: “کم از کم اس ڈیلیگیشن میں ہمیں کسی قسم کی کوئی معلومات نہیں ملی، جب تک کہ ہم نے خود لوگوں کو اس طرح سرحد عبور کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔”
انہوں نے اس بات کو بھی دہرایا کہ: “جمعرات کی صبح جب یہ واقعہ پیش آیا تو اسی وقت سب کو اس کی خبر ہوئی، اس سے پہلے کسی کے پاس کوئی معلومات نہیں تھیں۔”
اسی حوالے سے، وزیر داخلہ فرناندو گراندے مارلاسکا نے بھی گزشتہ روز کہا تھا کہ 30 جولائی کو پیش آنے والی اس صورتحال کے بارے میں پہلے سے کوئی رپورٹ موجود نہیں تھی۔
