پرتگال میں نام نہاد ’برقع قانون‘ بدھ سے نافذ العمل ہوگیا ہے، جس کے تحت عوامی مقامات پر چہرہ چھپانے یا اسے واضح طور پر دکھائی نہ دینے دینے والے لباس کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس قانون کی خلاف ورزی پر 3 ہزار یورو تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ قانون کے نفاذ سے قبل اسے سرکاری جریدے Diário da República میں شائع ہوئے 30 دن مکمل ہو چکے تھے۔
قانون نمبر 58/2026 ایسے لباس کے استعمال پر پابندی عائد کرتا ہے جن کا مقصد عوامی مقامات پر کسی شخص کے چہرے کو ’’چھپانا یا اس کی نمائش میں رکاوٹ ڈالنا‘‘ ہو۔ تاہم قانون کے متن میں براہِ راست برقع، نقاب یا کسی مخصوص مذہب کا نام نہیں لیا گیا۔
یہ پابندی عوامی مقامات، عوام کے لیے کھلی جگہوں، سرکاری خدمات فراہم کرنے والے مقامات اور شہریوں کو عمومی خدمات فراہم کرنے والی جگہوں پر لاگو ہوگی۔ اس کے علاوہ تقریبات، کھیلوں کے مقابلوں اور مظاہروں میں شرکت کے دوران بھی اس قانون کا اطلاق ہوگا۔
قانون میں بعض حالات کے لیے استثنیٰ بھی رکھا گیا ہے۔ اگر چہرہ چھپانے کی وجہ صحت، پیشہ ورانہ ضرورت، فنون، تفریح یا تشہیر سے متعلق ہو تو پابندی لاگو نہیں ہوگی۔ اسی طرح سیکیورٹی کی وجوہات یا موسمی حالات کے باعث چہرہ ڈھانپنے کی ضرورت کی صورت میں بھی استثنیٰ دیا گیا ہے۔
قانون کے حامیوں کے مطابق اس کا مقصد عوامی مقامات پر چہرے کی شناخت اور سیکیورٹی سے متعلق تقاضوں کو یقینی بنانا ہے، جبکہ قانون کے ناقدین اسے لباس اور مذہبی آزادی کے حوالے سے بحث کا موضوع قرار دے سکتے ہیں۔ تاہم قانون کے متن میں کسی مخصوص مذہبی گروہ کو براہِ راست ہدف نہیں بنایا گیا ہے۔
