نیویارک / اسپین کے وزیر اعظم پیدرو سانچیز نے نیویارک کے میئر زوہران مامدانی کے ہمراہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسپین اور نیویارک میں جاری ترقی پسند پالیسیوں کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پالیسیاں معاشرے کے کمزور طبقات کے لیے کام کر رہی ہیں اور عدم مساوات میں کمی کا باعث بن رہی ہیں۔ سانچیز نے کہا کہ ’’طاقتور لوگ ہم سے خوفزدہ ہیں‘‘ کیونکہ یہ ثابت ہو رہا ہے کہ ترقی اور معاشی خوشحالی کا ایک مختلف راستہ بھی ممکن ہے۔
’اکثریت کے لیے معیشت کی تعمیر‘ کے عنوان سے منعقدہ تقریب میں سانچیز نے اسپین کے معاشی ماڈل اور امیگریشن پالیسی کا خصوصی طور پر دفاع کیا۔ ان کے مطابق اسپین گزشتہ آٹھ برسوں سے یہ ثابت کر رہا ہے کہ معاشی ترقی کے لیے کارکنوں کو قربانی دینے اور کمزور سماجی تحفظ پر مجبور کرنا ضروری نہیں۔
سانچیز نے کم از کم اجرت میں اضافے، صاف توانائی کے فروغ، کم آمدنی والے خاندانوں کے تحفظ اور کم از کم آمدنی کے نظام سمیت اپنی حکومت کے مختلف اقدامات کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سماجی انصاف معاشی ترقی کا دشمن نہیں بلکہ اس کا ایک اہم ستون ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسپین دنیا کی ترقی یافتہ معیشتوں میں تیزی سے ترقی کرنے والے ممالک میں شامل ہے، جبکہ بے روزگاری تقریباً دو دہائیوں کی کم ترین سطح پر ہے اور 2008 میں ریکارڈ شروع ہونے کے بعد عدم مساوات بھی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
امیگریشن کے حوالے سے سانچیز نے کہا کہ تارکین وطن اسپین کی کمپنیوں میں کام کرتے، سرکاری خزانے میں حصہ ڈالتے، فلاحی نظام کو سہارا دیتے اور معاشرے کو ثقافتی طور پر مالا مال کرتے ہیں۔
دوسری جانب زوہران مامدانی نے اسپین میں کم از کم اجرت میں اضافے سمیت بعض سماجی اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے سانچیز کو محنت کش طبقے کا حامی قرار دیا اور وفاقی حکومت کی مختلف سماجی پالیسیوں کا حوالہ دیا۔
مامدانی نے اپنی تقریر کے آغاز میں معروف ہسپانوی شاعر فیدریکو گارشیا لورکا کی نظم ’’کانسیون دیل خینیتے‘‘ بھی پیش کی اور کہا کہ آج کی دنیا بھی کئی دہائیوں پہلے کی طرح مشکل اور ہنگامہ خیز دور سے گزر رہی ہے۔
