اسپین میں رہائش کا بحران عوام کی بڑی تعداد کے لیے تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ مرکز برائے سماجی تحقیق (CIS) کے ہاؤسنگ بیرومیٹر 2026 کے مطابق 91.4 فیصد اسپینی شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو موجودہ صورتحال کے مقابلے میں مزید سرکاری مکانات تعمیر کرنے چاہئیں، جبکہ 76.3 فیصد شہریوں کے مطابق ہر شخص کو رہائش کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ریاست کو ہاؤسنگ مارکیٹ میں ضرورت کے مطابق مداخلت کرنی چاہیے۔
سروے کے مطابق 79 فیصد افراد سمجھتے ہیں کہ ہاؤسنگ پالیسی میں رہائش کے آئینی حق کو ترجیح دی جانی چاہیے، جبکہ صرف 13.5 فیصد اسے مارکیٹ کی ایک عام چیز سمجھنے کے حامی ہیں۔
مخصوص اقدامات میں 75.6 فیصد نے سیاحتی اپارٹمنٹس کو محدود کرنے، 70.6 فیصد نے دو سال کے لیے کرایوں کو منجمد کرنے اور 72 فیصد نے 10 یا اس سے زیادہ مکانات رکھنے والے بڑے مالکان پر ٹیکس بڑھانے کی حمایت کی۔ سرکاری ہاؤسنگ کمپنی کے قیام کی حمایت 76.3 فیصد جبکہ نجی کمپنیوں کو فروخت کیے گئے سرکاری مکانات واپس لینے کی حمایت 83.1 فیصد افراد نے کی۔
سب سے زیادہ حمایت پہلی بار گھر خریدنے والوں کے لیے ٹیکس میں کمی کو حاصل ہوئی، جس کے حق میں 95.4 فیصد شہری ہیں۔ تقریباً نصف، یعنی 49.9 فیصد افراد، سرکاری مکانات کی تعمیر کے لیے زمین ضبط کرنے کے حامی ہیں، جبکہ 40 فیصد خالی مکانات ضبط کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔
سروے میں 86.9 فیصد افراد نے رہائش کی صورتحال پر شدید یا کافی تشویش کا اظہار کیا۔ دوسری جانب 80.6 فیصد افراد نے کہا کہ وہ آئندہ دو برس میں گھر خریدنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔
گھر خریدنے کے خواہشمند افراد کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ رقم کی کمی ہے۔ 80.7 فیصد نے گھر کی ابتدائی رقم اور 71.3 فیصد نے ماہانہ اقساط ادا کرنے کے لیے ناکافی آمدنی کو بڑی مشکل قرار دیا۔
CIS نے یہ سروے وزارتِ ہاؤسنگ کے تعاون سے کیا، جس میں 22 سے 30 جون 2026 کے درمیان 6,019 افراد سے انٹرویوز کیے گئے۔
