بارسلونا (19 اکتوبر 2026 ترجمہ دوست نیوز)اسپین کی خودمختار جامعہ بارسلونا (UAB) میں انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے متنازع کارکن ویتو کیلِیس کا جلسہ کرنے کا منصوبہ ناکام ہوگیا۔ جامعہ انتظامیہ کی جانب سے تقریب کی اجازت نہ دینے اور کاتالان پولیس موسوس دِ اسکوادرا کی جانب سے سخت حفاظتی انتظامات کے باعث وہ جامعہ کے مرکزی مقام پلازا سیویکا تک نہ پہنچ سکے۔ بعد ازاں انہوں نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ وہ قریبی شہر سابادیل میں واقع آئیکیا جا رہے ہیں۔
ویتو کیلِیس نے اسپین کے مختلف علاقوں میں ’’مافیا یا وطن‘‘ کے عنوان سے جاری اپنے دورے کے سلسلے میں پیر کی شام پانچ بجے جامعہ میں تقریب منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم، جامعہ انتظامیہ پہلے ہی واضح کر چکی تھی کہ اس تقریب کی اجازت نہیں دی گئی اور پولیس کیلِیس کو جامعہ میں داخل ہونے سے روکے گی۔
مقررہ وقت پر جامعہ کے پلازا سیویکا میں طلبہ کی بڑی تعداد جمع ہوگئی، جنہوں نے ویٹو کیلِیس اور انتہائی دائیں بازو کی سیاست کے خلاف نعرے لگائے۔ جامعہ کے دیگر حصوں میں بھی طلبہ کے مختلف گروپ موجود رہے تاکہ اگر کیلِیس کسی شعبے میں پہنچنے کی کوشش کریں تو ان کی موجودگی کا پتا چل سکے۔ دوسری جانب، پولیس کے وسیع حفاظتی حصار نے ان کی جامعہ تک رسائی روک دی۔ چند نوجوان ہی ان کی حمایت میں سامنے آئے۔
احتجاج کے دوران صورتحال اس وقت کشیدہ ہوگئی جب کیلِیس کے مخالف طلبہ کے بعض گروپوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ اطلاعات کے مطابق، بعض نوجوانوں نے پولیس اہلکاروں کی جانب مختلف اشیا، جن میں شیشے کی اشیا بھی شامل تھیں، پھینکیں۔ اس کے بعد پولیس نے مظاہرین کو منتشر کردیا۔
ویٹو کیلِیس نے پولیس کی کارروائی پر سوشل میڈیا پر ردعمل دیتے ہوئے موسوس پولیس کی تعریف کی اور مظاہرین کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس نے سیاسی احکامات کے تحت ان کی آزادانہ نقل و حرکت کے حق کو محدود کیا ہے اور بنیادی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ واقعہ جامعہ میں ان کی مجوزہ تقریب کے خلاف طلبہ کے احتجاج اور سیاسی اختلافات کے باعث پیدا ہونے والی کشیدگی کو نمایاں کرتا ہے۔
