بارسلونا(دوست نیوز)27اکتوبر کشمیر کا 79واں یومِ سیاہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج کی آمد اور کشمیری عوام کی جدوجہدِ حقِ خودارادیت کی یاد میں پاکستان قونصل خانہ بارسلونا میں تقریب کا انعقاد کیا گیا

تقریب کا آغاز تلاوت قرآن مجید اور نعت رسول مقبول ﷺ سے ہوا،نظامت کے فرائض ویلفئیر قونصلر چوہدری سالک گوندل نے سرانجام دئیے
تقریب میں قونصل جنرل مراد علی وزیر نے صدر پاکستان ملک طارق اعوان نے وزیراعظم پاکستان اور سجیل اقدس نے ڈپٹی وزیراعظم کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے

پاکستان انصاف، امن، عزت اور حقِ خودارادیت کے حصول کی جدوجہد میں کشمیری عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ پاکستان اس عزم کا اظہار کرتا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب جموں و کشمیر کے عوام اپنی خواہشات کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں گے اور مسئلۂ جموں و کشمیر منصفانہ اور پُرامن حل کی جانب بڑھے گا۔

کشمیری عوام کے لیے 27 ستمبر محض کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں، بلکہ یہ دن وہ یومِ احتجاج کے طور پر مناتے ہیں، جس کے ذریعے وہ اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کو مسئلۂ کشمیر کے حوالے سے ان کی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کراتے ہیں۔ کشمیری عوام توقع رکھتے ہیں کہ عالمی برادری اس دیرینہ تنازعے کے منصفانہ حل کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔

27 اکتوبرکا دن کشمیری عوام سے یکجہتی کا اظہار اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلۂ کشمیر کے پُرامن حل کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔
یہ دن مسئلۂ کشمیر کو اجاگر کرنے اور خطے میں امن، انصاف اور کشمیری عوام کی امنگوں کے احترام کی یاد دہانی ہے۔
امریکہ میں مقیم کشمیری رہنما غلام نبی فائی نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہاپاکستانی حکومت کا اصولی مؤقف یہی ہے کہ اس معاملے کی بین الاقوامی ادارے کے ذریعے تحقیقات کرائی جائیں اور جو بھی ذمہ دار ہو، اسے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ پاکستان کا یہ اصولی مؤقف ہے کہ اقوامِ متحدہ کے تمام رکن ممالک ان اصولوں کی حمایت کریں۔

اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا تھا کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کر رہے ہیں، کیونکہ مسئلۂ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی اور جوہری تصادم کے خطرے کا ایک اہم سبب ہے۔
تقریب میں پاکستانی وکشمیری کمیونٹی نے شرکت کی ۔
